کشش زمیں

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - زمین کی کشش جو ہر ایک شے کو مرکز زمین کی طرف مائل کرتی ہے، زمین کی قوتِ کشش۔ "زمین کے کسی ایک مقام پر کششِ زمین کا اسراع تمام اجسام کے لیے برابر ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦٥ء، مادے کے خواص، ٣٨ )

اشتقاق

فارسی زبان میں کشیدن مصدر سے حاصل مصدر کشش کو کسرۂ اضافت کے ذریعے فارسی ہی سے ماخوذ اسم زمین کے ساتھ ملانے سے مرکب بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨٨٩ء کو "مبادی العلوم" کے ترجمہ میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - زمین کی کشش جو ہر ایک شے کو مرکز زمین کی طرف مائل کرتی ہے، زمین کی قوتِ کشش۔ "زمین کے کسی ایک مقام پر کششِ زمین کا اسراع تمام اجسام کے لیے برابر ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦٥ء، مادے کے خواص، ٣٨ )

جنس: مؤنث